Ads Here

Friday, April 24, 2020

کیا رمضان کریم میں کرونا ختم ہو جاۓ گا؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

امید ہے آپ سب خریت سے ہوں گے۔
رمضان کی آمد آمد ہے اور کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو اہنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ان مشکل حالات کے پیش نظر حکومتِ پاکستان بھی اپنی حکمتِ عملی گاہے بگاہے تبدیل کر رہی ہے۔ رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے۔ رمضان کو تمام مہینوں میں وہی مقام حاصل ہے جو جمعہ والے دن کو باقی دنوں پر حاصل ہے۔ ہم سب بہت خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالٰی نے ماہِ رمضان کی برکتوں سے مالا مال ہونے کے لیے ہمیں ایک موقع اور فراہم کیا۔ رمضان میں جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دوزخ کے تمام دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ ہمیں اپنے گناہوں سے معافی مانگنے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔
کرونا ایک وباٸی مرض ہے جو کے لوگوں کے زیادہ میل جول سے بڑھتا ہے۔ کرونا ابھی تک لاعلاج بیماری ہے اور اس کا زیادہ شکار بوڑھے اور بچے ہیں۔ چند اختیاطی تدابیر کر کے ہی بچا سکتا ہے۔
رمضان کا کرونا کے خاتمہ کے لیے کردار بہت اہم ہے۔ کیونکہ اس ماہ میں لوگ پاک صاف اور باوضو رہتے ہیں جو کہ کرونا کے ختم ہونے کی وجہ بن سکتا ہے۔ دن میں پانچ دفعہ وضو کیا جاۓ اور صفائی کا خاص خیال رکھا جاۓ تو تمام جراثيم ختم ہو جاٸیں گے۔ ویسے بھی صفائی نصف ایمان ہے۔ لاک ڈاٶن کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کے رہ گٸے ہیں۔ لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں۔ بازاروں میں رونق ختم ہو چکی ہے۔ وہ خضرات جن کے پاس اذان سننے کے لیے بھی وقت نہیں ہوتا تھا آج وہ انتہائی فری ہیں۔ رمضان کی بدولت ہمیں دوبارہ اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ اب لوگوں کے پاس وقت ہی وقت ہے۔ دعا استغفار کثرت سے کریں۔ گناہوں سے توبہ کریں۔ عبادات کو زریعہ نجات بناٸیں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اختیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوں تو یقینا کرونا ختم ہو جاۓ گا۔ مساجد میں نماز تراویح کی البتہ اجازت مل گٸ ہے لیکن وہ اجازت اختیاطی تدابر سے مشروط ہے۔ ہمیں بھی اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے اور اختیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوتے ہوۓ عبادات کو یقینی بنایا جاۓ۔ خدانخواستہ اگر ملکی حالات مزید خراب ہو گۓ تو حکومت مساجد کو بند بھی کر سکتی ہے۔ یہ مشکل وقت سیاست کا نہیں بلکہ حکومت کا ساتھ دینے کا ہے کیونکہ اس سے تمام ملک کو خطرہ ہے۔ حکومت جو بھی فیصلہ کرتی ہے وہ اسلام کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر اور علما اکرام کی مشاورت سے ہی کیا جاتا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح اپنی عوام کی خفاظت ہے۔
ماہِ رمضان اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک تحفہ ہے کیونکہ اللہ تعالٰی رمضان میں دعاٸیں قبول کرتا ہے۔ اور اگر ہم صدقِ دل سے اللہ تعالٰی سے دعا مانگیں تو ضرور سنی جاۓ گی۔ رمضان کا کرونا کے خاتمہ کے لیے اہم کرادر ہے۔ ہم سب کو اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
اللّٰہ تعالٰی ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment