سوشل میڈیا کیا ہے؟
سوشل میڈیا سے مراد وہ ویب سائٹیس اور ایپلیکیشنز ہیں جو لوگوں کو تیزی سے، موثر اور حقیقی وقت پر مواد کا اشتراک کرنے کی اجازت دینے کے لئے ڈیزائن کی گئیں ہیں۔ سوشل میڈیا پیغام رسانی کا اپنے جزبات کی عکاسی کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ جس شخص کے پاس بھی فون ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے سوشل میڈیا سے ضرور وابستہ ہے۔ دنیا میں کڑوڑوں لوگ سوشل ویب ساٸیٹ پر موجود ہیں دن میں لاکھوں لوگ اپنے ذہن اور جذبات کی عکاسی کے لیے یا معلومات کی ترسیل کے لیے مختلف سوشل ساٸٹس استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹک ٹاک وغیرہ۔
سوشل میڈیا کا کردار۔
سوشل میڈیا سے مراد وہ ویب سائٹیس اور ایپلیکیشنز ہیں جو لوگوں کو تیزی سے، موثر اور حقیقی وقت پر مواد کا اشتراک کرنے کی اجازت دینے کے لئے ڈیزائن کی گئیں ہیں۔ سوشل میڈیا پیغام رسانی کا اپنے جزبات کی عکاسی کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ جس شخص کے پاس بھی فون ہے وہ کسی نہ کسی طریقے سے سوشل میڈیا سے ضرور وابستہ ہے۔ دنیا میں کڑوڑوں لوگ سوشل ویب ساٸیٹ پر موجود ہیں دن میں لاکھوں لوگ اپنے ذہن اور جذبات کی عکاسی کے لیے یا معلومات کی ترسیل کے لیے مختلف سوشل ساٸٹس استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹک ٹاک وغیرہ۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ شٸیر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کیا کریں۔ بعض لوگ خود سے ہی پوسٹ بنا کر دوسرے لوگوں سے منسوب کر دیتے ہیں جو بعد میں معاشرے میں بگاڑ اور بدنظمی پیدا کر سکتا ہے۔ آن لائن شیئرنگ اور مواصلات کے ساتھ اخلاقیات کا جو کردار ادا کیا جاسکتا ہے وہ بہت اہم ہے۔ کسی کے نام سے، کسی کی اجازت کے بغیر کوٸی پوسٹ، پیغام یا ذاتیات کے اوپر بات کرنا، طنز کرنا، جھوٹ بولنا یہ سب غیر اخلاقی کام ہیں۔ مذہب کے لحاظ سے لوگوں کی دل آزاری بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ ٹیلی ویژن تک پہنچنے سے پہلے ہی خبروں کو فوری طور پر آن لائن شیئر کیا جاسکتا ہے۔ مواصلات کا فیصلہ مثبت اور منفی دونوں طرح سے اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ قارئین پر منحصر ہے کہ وہ معلومات کو کس تناظر سے پرکھتے ہیں۔ قارئین کو معلومات کے سیاق و سباق، چینل اور مصنف کو دیکھنا چاہئے اور بغیر تصدیق کیے کسی بات پر اپنا ردِعمل ظاہر نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آن لائن گفتگو کرتے ہیں، لہذا روبرو رابطے کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے پیغام موصول ہونے اور اس کی ترجمانی کرنے کے طریقوں پر متعدد اثر پڑتے ہیں۔ لوگ فلٹر آؤٹ کرنے اور ان پیغامات کی اقسام کو منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو وہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا کردار۔
سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا ایک سکے کی طرح ہے جس کے دونوں اطراف واضع ہیں۔ یہ سوشل میڈیا اچھے کام کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے اور برے کے لیے بھی اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم اس کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔
-اظہار رائے کی آزادی
یہ ایسا حق ہے جو انسان اپنے خیالات اور جذبات کے اظہار خیال کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس میں اسے کسی قسم کی روکاوٹ نہ ہو۔ ایک اندازے کے مطابق 2.55 بلین سے زیادہ لوگ سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں۔
-سوشل میڈیا کے فاٸدے
-سوشل میڈیا کے فاٸدے
سوشل میڈیا معلومات کی فراہمی کو آسان بناتا ہے۔ مختلف کلچر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، تعلیم کے پھیلاٶ میں سوشل ساٸٹس کا بہت کردار ہے۔ کھیلوں کو فروغ ملتا ہے۔ نٸی نوکریوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ کاروبار کے نٸے آٸیڈیاز ملتے ہیں گو ہر فلیڈ میں سوشل میڈیا کا ایک الگ اور اہم مقام ہے۔
-سوشل میڈیا کا استعمال
اگر کوٸی شخص کسی پوسٹ کو سوشل ساٸٹ پر ایڈ کرتا ہے تو وہ شخص اپنی پوسٹ اور الفاظ کا %100 ذمہ دار ہوتا ہے اگر کوٸ شخص کسی کی پوسٹ کو شٸیر کرتا ہے تو وہ %50 ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی پوسٹ کو لاٸک کرنے والا %10 فیصد ذمہ دار ہوتا ہے۔
-کسی بھی پوسٹ کی درستگی چیک کرنے کے لیے طریقہ کار
١۔ سب سے پہلے خبر کو جغرافيائی لیول پر چیک کریں۔ مثلاً اگر کوٸی شخص کہتا ہے کہ پہاڑی علاقہ جات میں درجہ حرارت 45 ڈگری ہے تو جغرافيائی لحاظ سے پرکھیں کہ کیا یہ ممکن ہے؟
٢۔ کسی بھی خبر کو تاریخ کے تناظر سے بھی چیک کیا جاۓ۔ مثلاً اگر کوٸی شخص کہتا ہے کہ میری بچپن میں قاٸد اعظم سے ملاقات ہوٸی تھی۔ اب چیک کریں کہ کہنے والے کی عمر کتنی ہے اگر اس کی عمر 70 سال ہے تو وہ سراسر جھوٹ بول رہا ہے۔
٢۔ کسی بھی خبر کو تاریخ کے تناظر سے بھی چیک کیا جاۓ۔ مثلاً اگر کوٸی شخص کہتا ہے کہ میری بچپن میں قاٸد اعظم سے ملاقات ہوٸی تھی۔ اب چیک کریں کہ کہنے والے کی عمر کتنی ہے اگر اس کی عمر 70 سال ہے تو وہ سراسر جھوٹ بول رہا ہے۔
٣۔ جس بندہ نے خبر پھیلاٸی اس کا کردار کیسا ہے؟ کیا وہ ذمہ دار شہری ہے؟ کیا وہ معاشرے میں ایک باوقار مقام رکھتا ہے؟
٤۔ کیا خبر یا بات کسی جامع خقیقت اور قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟
٤۔ کیا خبر یا بات کسی جامع خقیقت اور قرآن و سنت کے خلاف تو نہیں؟
٥۔ کسی بھی خبر کو کسی نیوز چینل یا نیوز پورٹل سے پرکھیں۔
٦۔ کسی بھی خبر کو کراس چیک کریں۔
٧۔ اگر کوٸی بھی جھوٹی خبر نظر آے تو متعلقہ ادارے یا ساٸبر کراٸم کو روپورٹ کریں۔
مندرجہ بالا تمام ذرائع سے کسی بھی خبر کی درستگی کو پرکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے اسلامی آداب قرآن اور احادیث کی روشنی میں۔
١۔ اللہ تعالٰی کا قرآن مجید میں سورۃ نمبر 49 (حجرات) آیت نمبر 6 میں خبر کی سچائی کے بارے میں واضح ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لاۓ ان کے پاس جب بھی کوٸی خبر لاۓ تو اس کو اچھے طریقے سے پرکھ لو۔
آج کل کا زمانہ کاپی پیسٹ کا ہے بغیر سوچے سمجھے پوسٹ شٸیر کر دی جاتی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق کومنٹس میں فیصلہ صادر فرما دیا جاتا ہے۔
٢۔ صحیح مسلم کی حدیث نمبر 7 میں رسول اللہ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ ایک انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی بات کو سنتا ہے اور وہاں سے بغیر تصدیق کیے آگے پھیلا دیتا ہے۔
جو خبر لا رہا ہے اس کو بھی پرکھا جاۓ اور خبر کو بھی اچھے طریقے سے پرکھا جاۓ کیونکہ غلط خبر معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
٣۔ صحیح مسلم کی حدیث نمبر 176 کا مفہوم ہے کہ وہ انسان جواللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ بات کرے تو اچھی کرے ورنہ خاموش رہے۔
سوشل میڈیا کے قوانين۔
١۔ خفیہ یا دیگر ملکیتی معلومات شٸیر نہیں کی جا سکتی۔
٢۔ کاپی رائٹ، منصفانہ استعمال ، یا مالی انکشاف قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ جب آپ کسی کو حوالہ دیتے ہیں تو، ممکن ہو تو ماخذ سے دوبارہ لنک کریں.
٣۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے آن لائن پروفائلز اور اس سے متعلقہ مواد مطابقت رکھتا ہے کہ آپ اپنے آپ کو ساتھیوں اور مؤکلوں کے سامنے کس طرح پیش کرنا چاہتے ہیں۔
٤۔ یہ فرض نہیں کریں گے کہ اگر آپ نا مناسب تبصرے اور مواد شائع کرتے ہیں تو گمنام پوسٹ کرنے سے آپ کی اصل شناخت خفیہ رہے گی۔
٥۔ اس مشمولات کی ذاتی ذمہ داری قبول کریں جو آپ بلاگز وغیرہ ، یا ۔کسی اور عوامی فورم پر شائع کرتے ہیں
٦۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ آپ کے فرم کے برانڈ کی نمائندگی اس کے عوام کرتے ہیں اور جو آپ شائع کرتے ہیں وہ لازمی طور پر اس برانڈ یعنی (کردار) کی عکاسی کرے گا۔
٧۔ محض رائے اور دھندلاہٹ کے بجائے قابل قدر معلومات اور تناظر فراہم کرکے قیمت میں اضافے کی پوری کوشش کریں۔
٨۔ فرم کے مؤکلوں ، شراکت داروں ، یا سپلائرز کو ان کی منظوری کے بغیر حوالہ نہیں دیتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ کو قانونی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
٩۔ دوسروں کی رازداری اور حساسیت کے معاملہ پر مناسب غور کریں جو سیاست اور مذہب سے متعلق ہوسکتے ہیں
١٠۔ نسلی گستاخی ، ذاتی توہین ، فحاشی کا استعمال نہ کریں ، یا کسی آن لائن طرز عمل میں مشغول نہ ہوں جو کام معاشرے کے قابل قبول نہ ہو۔
اخلاقی اصولوں کو سوشل میڈیا پر لاگو کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
سوشل میڈیا کسی کو بھی بنیادی طور پر کسی بھی چیز کو آن لائن شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ہر طبقے کا فرد بلا تفریق سوشل ویب ساٸٹ پر موجود ہوتا ہے۔ کاروباری لوگ بھی ہوتے ہیں، اساتذہ بھی ڈاکٹر اور دہاڑی دار بھی، مزہب سے لگاؤ رکھنے والے بھی موجود ہوتے ہیں۔ کسی کاروبار میں ، ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے برانڈ کے لئے ایک مثبت شناخت بنائیں۔ اگر پالیسیاں عمل میں نہیں لائی گئیں تو ملازمین کسی کو بھی کچھ بھی بانٹنے میں آزاد ہوسکتے ہیں۔ کاروبار کو ناظرین کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس کے ساتھ معلومات بانٹنا چاہتے ہیں۔ آن لائن بات چیت کرتے وقت کاروبار کی کچھ ہدایات پر عمل کرنا چاہئے۔ ایسی معلومات کا اشتراک کریں جو آپ کے برانڈ کو ایک مثبت امیج دیں گے۔ لوگ قابل اعتبار معلومات چاہتے ہیں ، لہذا انھیں وہی دیں۔ اس سے آپ کے کاروبار میں اعتماد پیدا ہوگا ، جو لیڈز اور صارفین کو بڑھانے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔ دوسروں کے کہنے کے بارے میں کھلا رہو۔ جب آپ جواب دیتے ہیں تو ، آپ معاشرے میں معاشرتی بھلائی پیدا کرنے کے لئے جو کچھ کہتے ہیں اس میں منصف ہوں۔ آگاہ رہیں کہ آپ کی معلومات کون دیکھ سکتا ہے؟ کون دیکھ رہا ہے؟ کیا بانٹ رہا ہے؟ اور کیا کہا جارہا ہے؟ اور اگر کسی منفی چیز کو شیئر کیا جارہا ہے تو اس کا تجزیہ کریں۔ اگر یہ قابل اعتبار ہے تو ، اس کو مثبت انداز میں اس کا جواب دیں تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ آپ کو اپنے معاشرے سے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اس کی پرواہ ہے ، اور اس میں بہتری لانے کے لئے کسی قسم کی کارروائی کی جارہی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص آپ کی بات سے اتفاق کرے ہر کسی کو اختلاف راۓ کا حق ہے لیکن ایک داٸرے کے اندر اور اخلاقیات کو ملخوظ خاطر رکھتے ہوۓ۔
جھوٹی خبروں کی مثالیں!
سوشل میڈیا پر آج کل یہ تین تصاویر کروناوائرس کے حوالے سے تیزی سے گردش کررہی ہیں۔👇

پہلی تصویر: اس تصویر کو دیکھیے، اس میں بہت سے تابوت دیکھے جاسکتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ اموات کرونا سے ہوئی ہیں، یہ بالکل غلط ہے، یہ 6 سال پرانی تصویر ہے جس میں جو تابوت نظر آرہے ہیں وہ کشتی ڈوبنے سے مر گئے ہیں۔
دوسری تصویر: آج کل یہ بات پھیل گئی ہے کہ یہ اٹلی کا صدر/وزیراعظم کرونا کی وجہ سے ہار مان کر رو رہا ہے یہ بھی غلط ہے، یہ برازیل کا صدر ہے، اور یہ قاسم سلیمانی کے واقعہ کے وقت کا ہے یہ تب رویا تھا۔
تیسری تصویر: اس میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے بازاروں میں مر رہے ہیں اور لوگ اسے ہاتھ تک نہیں لگا رہے ہیں، یہ بھی غلط ہے، دراصل یہ 2014 کی تصویر ہے جس میں لوگ 1945 میں مارے گئے 528 بندوں کی یاد میں آرٹ پروجیکٹ کر رہے ہیں
ان کے علاوہ جو جھوٹ گردش کر رہے ہیں کہ روسی صدر نے گلیوں میں شیر چھوڑ دیئے۔ اور اٹلی میں زلزلہ آگیا۔ شیر والی تصویر جوہانسبرگ کی ہے جو 2016 کی ہے اور زلزلہ کروشیا میں آیا ہے۔ حال ہی میں فیصل آباد پولیس کے لخاظ سے ایک خبر گردش میں ہے کہ پولیس نے 4 ملزمان کو سر عام گولیاں مار دی جب کہ خقیقت اس کے یکسر مختلف ہے اور لوگ اس پوسٹ کو ڈھڑا دھڑ شیٸر اور لاٸک کر رہے ہیں بغیر تصدیق کیے۔
وفاقی وزیر تعلیم مراد راس صاحب کے بارے میں بھی خبر گردش میں ہے جس میں انہوں نے سال بھر کے لیے سکول بند کرنے کا کہا ہے لیکن اس بات میں بھی کوٸی صداقت نہیں۔ لوگ سوشل میڈیا پر مشہور ہونے کے لیے، اپنے پیج یا پوسٹ پر لاٸک اور کومنٹ حاصل کرنے کے لیے یا کسی ذاتی رنجش کا بدلہ لینے کے لیے کسی بھی حد تک جا رہے ہیں سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ جھوٹ بول کر ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں اور باقی ہم لوگ بغیر تحقیق کیے شئیر کر دیتے ہیں۔
غلط پوسٹ کرکے لوگوں کو ذہنی مریض نہ بنائیں، ان میں بہت سے حساس لوگ بھی ہیں جو یہ تصویر دیکھ کر اور بھی ڈر جاتے ہیں۔ لوگوں میں حوصلہ پیدا کریں نہ ان کو ہراساں کریں۔۔ احتیاط اور حفاظتی اقدامات کی ترویج کریں۔
آپ کی بات سے میں مکمل اتفاق کرتا ہوں لیکن ہمارا معاشرہ ضرورت سے زیادہ بگڑ چکا ہے اور اس معاشرے کی اصلاح کا کوئی بہترین طریقہ اگر عمل میں آئے تو یہ بہت اچھی بات ہے آپ کی یہ تحریر پڑھ کر ہر کوئی کہے گا کہ بات بالکل آپ کی ٹھیک ہے لیکن سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ انہی باتوں پر عمل کیا جائے اور ہم آپ کی زندگی کو خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں
ReplyDeleteعمل بہت ضروری ہے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے۔
DeleteNice article
ReplyDeleteThank u Sir.
Deleteعلی بھائی آپ کی پوسٹ میں جو بھی لکھ ہے سچ اور ٹھیک ہے بات صرف عمل کی ہے عمل سے ہی معاشرے میں بگاڑ ختم ھو گا اگر لکھنےوالا پڑھنےوالا سننےوالا اور دیکھنےوالا عمل کریں تو اللہ پاک ھم سب کو عمل کی توفیق دے آمین
ReplyDeleteعلی بھائی آپ کی پوسٹ میں جو بھی لکھ ہے سچ اور ٹھیک ہے بات صرف عمل کی ہے عمل سے ہی معاشرے میں بگاڑ ختم ھو گا اگر لکھنےوالا پڑھنےوالا سننےوالا اور دیکھنےوالا عمل کریں تو اللہ پاک ھم سب کو عمل کی توفیق دے آمین
ReplyDeleteبہت بہت شکریہ۔ بلکل عمل ہی کسی انسان کے کردار کو واضح کرتا ہے۔
Delete