Ads Here

Wednesday, April 29, 2020

کیا قادیانی اقلیت ہیں یا مسلمان؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
امید ہے کہ آپ سب حریت سے ہونگے اور رمضان کریم میں اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہو رہے ہونگے۔
قادیانیوں کے حوالہ سے آج بلاشبہ ایک تاریخی فیصلہ سنایا گیا ہے۔ پاکستان گورنمنٹ نے قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں جگہ دے کر کافر کی مہر پکی کر دی۔ اس کمیشن کا نقصان صرف اور صرف قادیانیوں کو ہو گا۔ 
اس اقلیتی کمیشن کی وجہ سے اب قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے کیونکی قانون و آٸین میں وہ مسلمان نہیں ہیں۔اب اگر وہ اس کمیشن کو مانتے ہیں تو بطور غیر مسلم رجسٹرڈ ہوں گے۔ 
یعنی قادیانی اگر خود کو غیر مسلم تسلیم کر کے بطور اقلیت کمیشن میں شامل ہو جاتے ہیں تو  پھر تو بات ہی ختم ہو گٸی۔ یہی تو نظریہ ختم نبوت کی جیت ہے۔ 
بعض لوگ کہہ رہے ہیں اقلیت میں کیوں ڈال دیا۔ اقلیت کیا ہے۔ اقلیت کا مطلب ہی غیر مسلم ہے۔ جو اسلام کے قوانین کو نہیں مانتا۔  قادینیوں کو اقلیتی کمیشن میں ڈال دیا گیا ہے جہاں باقی اقلیتوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ جو حقوق باقی اقلیتوں کو حاصل ہیں وہی حقوق اب قادیانیوں کو بھی حاصل ہوںگے۔ ایک کمیٹی مسلمانوں کی ہے ایک کافروں کی جہاں یہودی، ہندو، عیساٸی بیٹھے گا وہاں اب قادیانی بھی بیٹھے گا۔ قادیانی مسلمانوں کی صف میں نہیں بیٹھے گا۔
ہمارا آٸین اور قانون میں تو ان کو ١٩٧٣ سے ہی کافر قرار دیا ہے لیکن یہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔
یہ جو کمیشن کی بات کی گٸی ہے ١٩٧٤ کے بعد بھی قادینیوں کو یہ کہا گیا تھا کہ اقلیتوں کی سیٹس پر آپ لوگ آ سکتے ہیں۔ الیکشن کی جو بات ہو رہی ہے کہ قادیانی الیکشن لڑیں گے اب وہ پارلیمنٹ میں گھس جاٸیں گے۔ ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اے بن جاٸیں گے تو میں واضح کر دوں کہ ایسا کچھ نہیں گا۔
پاکستان کے آٸین میں ہے کہ اقلیتی کوٹے میں تمام اقلیتیں آ سکتی ہیں یہ بات ١٩٧٤ کے آٸین میں بھی تھی لیکن قادیانی خود اقلیتی کوٹے میں نہیں آنا چاہتے تھے۔ کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ اب اگر وہ حصہ لیتے تو انہیں خود کو کافر کہہ کر آنا تھا۔ اب حکومت نے ان کو اقلیت واضح کر دیا ہے قادیانی اب دونوں طرف سے پھنس گٸے ہیں۔
اگر قادیانی خود کو اقلیتی کوٹے میں رکھ کر ایم این اے یا ایم پی اے بنتے ہیں تو ایم۔این۔اے اور ایم۔پی۔اے تو بن جاٸیں گے لیکن اقلیت کے کوٹے میں یعنی کافر۔ ہندو، عیساٸی یہودیوں کے ساتھ بیٹھیں گے۔
اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم اس کمیشن کا حصہ نہیں بنیں گے اور یقیناً وہ  اس کیمشن کو تسلیم نہیں کریں گے۔کیونکہ وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں اپنی طرف سے تو اگر وہ کمیشن کا حصہ نہیں بنیں گے تو ہمارے پاس بڑا اچھا جواز آ جاۓ گا دنیا کو بتانے کے لیے اور یہ جو این جی اوز والی آنٹیاں ہیں جو کہتی ہیں کہ اقلیتوں کو حقوق نہیں ملتے ان کو بتانے کے لیے کہ ہم نے تو حق دیا ہے کہ آپ اقلیتی کیمشن میں آ جاٸیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور جب وہ اقلیتی کمیشن کا حصہ نہیں بنیں گے تو وہ پاکستان کے آٸین کے غدار کہلاٸیں گے۔ 
قادیانیوں سے خطرہ کس کو ہے؟
خان صاحب نے آج قادیانیوں کو اقلیت قرار دے دیا۔ ختم نبوت پر
 سیاست کرنے والوں کو ایک اور موقع مل گیا ہے حالانکہ قادیانیوں سے صرف کمزور ایمان والوں کو خطرہ ہے۔ ختم النبیین ہمارے ایمان کا ایک لازمی جز جس کے بغیر ہم داٸرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتے۔ قادیانیوں سے خطرہ صرف ان مسلمانوں کو ہے جن کے ایمان کمزور ہو چکے ہیں۔ دین کے نام پر اور ختم نبوت کے نام سیاست کرنے والی قوم ہیں ہم۔ پاکستانی آٸین میں قادیانی کافر ہیں اب وہ خود کو کافر تسلیم نہیں کرتے تو اس سے فرق نہیں پڑتا، ظاہر ہے چور خود کو تو چور نہیں کہتا لیکن ہوتا وہ چور ہے۔ اب خان نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا ان پر کافر کی پکی مہر لگا دی تو بھی مسلہ ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق جب قادیانی اقلیت نہیں تھے تو بھی ختم نبوت کو خطرہ تھا اور اب اقلیت بن گے ہیں تو بھی ختم نبوت کو خطرہ ہے۔ رہی بات پارلیمنٹ میں گھسنے کی تو وہ گٸے تو اقلیت کے لحاظ سے ہی جاٸیں گے۔ اگر وہ اپنے دین کا پرچار کریں گے تو کیا ہمارے ایمان اتنے کمزور ہیں کے ہم ان کی باتوں میں آ جاٸیں گے۔
قادیانیت کے لحاظ سے کچھ اہم سوالات اور انکے جوابات۔
 قادیانیوں کو اقلیتوں میں شامل کرنے کا فیصلہ ہوتے ہی کچھ سوالات
اٹھانا شروع ہو گۓ ہیں جن میں سے کچھ اہم سوالات کچھ یوں ہیں۔
 ١۔ اب قادیانی اسمبلی میں پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
 ٢۔ اب قادیانی اپنی عبادت گاہیں تعمیر کریں گے۔
 ٣۔ اب قادیانی آزادی سے تبلیغ کرسکیں گے
 :پہلے سوال کا جواب
کیا آپ کو معلوم ہے کہ پچھلی دور حکومت میں گورنر پنجاب اور وزیر اطلاعات کون تھے؟ انکی مثال دینے کا مقصد آپ کو یی بتانا ہے کہ ماضی میں مسلمانوں کا لبادہ اوڑھے بڑے بڑے عہدوں پر آپکے قادیانی رہ چکے ہیں۔ ہمارا مقصد ہی یہی ہے کہ وہ خود کو صرف ایک بار ہی تو اقلیت مان لیں۔ وہ تو خود کو مسلمان سمجھتے ہیں وہ مر جائیں گے لیکن کبھی خود کو اقلیت مان کر اسمبلی میں نہیں پہنچیں گے۔
 :دوسرے سوال کا جواب
قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر پابندی کے باوجود آپکے ملک میں انکی عبادت گاہیں موجود ہیں۔۔ جنہیں عام سادہ لوح مسلمان مسجد سمجھ کر نماز پڑھنے جاتے ہونگے کیونکہ وہ بھی خود کو مسلمان سمجھتے ہیں اور نماز کا طریقہ کار بھی ہم سے زیادہ مختلف نہیں تو اسی لئے میں اس اقدام کی حمایت کررہا ہوں اگر قادیانی اقلیتوں میں شامل ہوجائیں گے تو انکی عبادت گاہوں سے لیکر شناختی کارڈز تک سب پر غیر مسلم یا قادیانی لکھنا شروع ہوجائے گا۔
 :تیسرے سوال کا جواب
 مجھے یہی بتاؤ آج تک بدھ مت، عیسائیوں، ہندو ، کرسچیئن، زاکریوں، سکھوں اور بے پناہ مذاہب کے ماننے والے جو اس ملک اور ہمارے معاشرے میں موجود ھے کبھی انکو تبلیغ کرتے دیکھا ہیں؟ کوئی ایک پاکستانی مسلمان بتا دے مجھے جو انکی تبلیغ کی وجہ سے دین اسلام چھوڑ کر بدھ مت ، عیسائی ، کریسچن ، سکھ ، ہندو یا کسی اور مذہب میں گیا ہو؟
:قادیانی ایک فتنہ
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قادیانی اقلیت نہیں فتنہ ہیں. بالکل درست... مگر جب آپ نے اسمبلی میں کافر ڈکلیر کروایا تھا تو فتنہ بھی ڈکلیر کرواتے. آپ ہی تھے جو سالہا سال سے اسی پر خوش ہیں کہ پارلیمنٹ آف پاکستان نے انہیں کافر قرار دے رکھا ہے. قادیانی اب پھل پھول چکے ہیں.. ان کی تین سے چار نسلیں آ چکی ہیں. جو قادیانی پیدا ہوئے وہ مرتد کیسے، مرتد وہ ہیں جو اسلام سے پھر جائے ۔ ابتدائی زمانے کے مرتدین کو مار دیا جاتا تو فتنہ مکمل ختم ہو جاتا. جس طرح مسیلمہ کذاب اور اس کے حواریوں کو مارا گیا تھا. اب دنیا میں کوئی ایسا قانون نہیں. جو معصوم بچوں اور لاعلم نوجوانوں کے گلے کاٹنے کا حکم دے. لہٰذا اب انہیں کافر ہی سمجھیے. ان کی اصلاح کا بیڑہ اٹھائیے. انہیں دعوت حق دینا شروع کیجیے. کتنے قادیانی مسلمان ہوئے آپ نے ویڈیو بھی دیکھی ہونگی آگے انہوں نے خاندان کے خاندان قادیانی سے مسلمان بنائے پھر انہیں کیوں نہیں مرتد سمجھا اور قتل کیا۔ آپ ان غیر مسلموں کو دعوت حق پہنچائیں اور اقلیت کی طرح پیش آنا سیکھیں. قادیانیوں نے آج تک خود کو اقلیت تسلیم نہیں کیا تھا. اگر وہ اقلیتی کمیٹی میں آتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کریں گے. اور آئین پاکستان کے تحت زندگی گزارنے کے پابند ہونگے. میرے خیال میں عمران حکومت کا یہ فیصلہ کسی طرح سے بھی مسلمانوں کے خلاف نہیں۔

یاد رکھیں خطرہ ہمارے کمزور ایمان کو ہے ختم نبوت کو نہیں لہذا ختم نبوت کے نعرے کا استعمال اپنے ذاتی یا سیاسی بغض کے لیے نہ کریں بلکہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔ قادیانی جھوٹے نبی کے دعوے دار سچے نہیں ہو سکتے۔ جو خضرات سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں سے ختم نبوت کو خطرہ ہے۔ وہ ہاتھ میں تلوار یا بندوق اٹھاٸیں، قانون کو ہاتھ میں لے کر قادیانیوں کو چن چن کر ماریں اور غازی کا ٹیگ لگوالیں سوشل میڈیا پر خود کو عالم ظاہر کرنے سے بہتر ہے عمل کر کے دیکھاٸیں۔ قادیانی کل بھی کافر تھا، آج بھی کافر ہے اور ہمیشہ کافر رہے گا۔ میرا ایمان اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰه اِلَّا اﷲُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُهُ ہے۔ ختم نبوت زندہ باد۔ الحمدولللہ۔

3 comments: